Friday, October 7, 2016

ہے دوڑتا اشہب زمانہ

چیزیں بدلتی رہتی ہیں اور اس کے باوجود تبدیل نہیں ہوتیں۔ یہ اوکسیمورن یا مجموعہ اضداد تو ہے ہی اقبال اور ہماری طرح مگر اس سے بڑھ کر المیہ ہے۔کم از کم ہمیں تو یہی لگتا ہے۔ لیکن خیر، ارتقا شاید اسی کا نام ہے اور ممکن ہے کہ ایک دن کبھی ہم صحیح معنوں میں تبدیل ہو جائیں۔
تبدیل تو ہم ہو گئے ہیں اور بہت سے معاملات میں اور اس قدر کہ اب  محاورتا نہیں بلکہ حقیقتا  آئینے میں خود کو دیکھتے ہیں تو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اس کی سیدھی سادی وجہ یہ ہے کہ ہم کہ تین وقت اماں کے ہاتھ کا خوب سارا کھانا کھایا کرتے تھے، اب دن میں ایک مرتبہ کچھ پکاتے کھاتے ہیں اور وہ بھی ناغے کے ساتھ۔دیگر امور زندگی کی طرح ہم کھانا پکانے میں بھی کچھ اینٹی ٹیلنٹ رکھتے ہیں یعنی پکاتے ہیں اور انتہائی بکواس۔ ایسے میں وزن میں دس کے ملٹی پل کا فرق پڑنا ایک قدرتی امر ہے۔یوں بھی خود کھانا  پکانے میں ہماری انرجی خرچ زیادہ ہو  
جاتی ہے تو کھانے کا خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ہمیں کھانا پکانے کے لیے کسی انسان یا روبوٹ کی ضرورت ہے مگر ظاہر ہے کہ ہم ہر دو مخلوق افورڈ کرنے سے قاصر ہیں۔
ایک فرق یہ بھی پڑا ہے کہ پہلے لوگ ہمیں پانچ چھ سال کی پکی دوستی کے بعد کک آوٹ کرتے تھے تو اب امریکہ کی سبک رو زندگی میں یہ دورانیہ سمٹ کے چار ہفتے پر محیط ہو گیا ہے۔ خیر ہم بھی اس مرتبہ شاید ڈھائی گھنٹے میں ہی ریکور کر گئے، تین سال  کے مقابلے میں۔ اگر ہمارے ارتقا کا ڈیری ویٹیو زیادہ ہو تو شاید ہم اس پتھردل دنیا میں سروائیو کر پائیں جہاں لوگ دل میں زہر لیے پھرتے ہیں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ ہم کہ فراز سے بھی زیادہ سادہ دل واقع ہوئے ہیں ، ہر ہاتھ بڑھانے والے کو دوست سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ تلخ حقیقت اب ہم پر واضح ہوئی ہے کہ اگر ہماری کسی سے ہود بھائی سے لے کر بھٹوز تک اور غالب سے لے کر کارل مارکس تک  سیر حاصل گفتگو ہو تو اس کا مطلب ہرگز، ہرگز اور ہرگز یہ نہیں کہ اگلا ہمارا دوست ہے یا خیر خواہ ہے یا اچھا انسان ہے۔ پھر اگر کوئی آج کے دن کے لیے  دوست بن  ہی گیا ہو تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ کل بھی دوست رہے گا۔ ابھی آخری کیس میں تو شاید فریق ثانی نے ایک ایک مہینے کا کوٹہ رکھنے کی عادت اپنائی ہوئی ہو۔ ویسے  یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اپنے ازلی غبی پن کے باعث کک آوٹ کر دیئے گئے ہوں جسے پہچاننے والے پہچان جاتے ہیں۔
ہاں ہمارے ارتقا کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ سابقہ کیس کے برعکس اس مرتبہ ہم نے آفنڈنگ پارٹی کے لیے اپنے دل سے نرم تو کیا، سخت گوشے بھی ختم کر دیے ایک دو دن ایٹ رینڈم گالیاں دینے کے بعد۔ عمر بڑھنے سے ہم پر یہ راز کھلا ہے کہ روایتی دانائی کے برعکس ہم مورٹلز  کے دل اور زندگی میں جگہ بہت کم ہوتی ہے لہذا ان میں فقط ان لوگوں کو رکھنا چاہیے جو اس قابل ہوں۔ داغ کے تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی میں بڑی تلخ سچائی پنہاں ہے کہ انسان انتہائی ریپلیس ایبل ہوا کرتے ہیں۔   اب ایسے میں کوئی ہارورڈ میٹیریل ہے تو ہوا کرے، ہمارے پاس جگہ نہیں ہے۔ ہارورڈ والے یوں بھی نمبر اور سفارشی خطوط دیکھ کر رکھ لیتے ہیں، انسان کا کردار تھوڑا ہی دیکھتے ہیں ٹھوک بجا کر۔ ہم ہارورڈ نہیں جا سکتے تو کیا ہوا، ہمیں تو ایک درخت کا سایہ بہت ہے۔ لیکن دنیا داری کے مارے ہوئے لوگ ایسے بے نیاز تھوڑا ہی ہو سکتے ہیں۔
دنیا کی پروا تو ہمارے پرانے جوتے بھی نہیں کرتے اور اس سپرٹ کے لیے ریاست ہائے متحدہ سے بہتر کون سی جگہ ہو سکتی ہے۔ یہاں ہم  انتہائی رنگین  مگر شکن  الود ملبوسات میں پھرا کرتے ہیں، کوئی کچھ کہہ کر تو دکھائے ہمیں۔ ہاں نوکری مانگنے کے لیے شاید ذرا تمیز سے جانا پڑے۔ اور ہاں بھئی، دنیا کی اگنور لسٹ پر ہم ہنوز ہیں لیکن اب اس بارے رونا دھونا نہیں مچاتے۔ رونا دھونا تو اب ہم کسی بارے میں بھی نہیں مچاتے کہ اماں کا گھٹنا میسر نہیں اور فون پر فقط جی جی اماں میں خوش ہوں کی تسلیاں دی جا سکتی ہیں۔  تھوڑا شوق ہو گیا ہے ہمیں دنیا سے لڑنے کا، اب خدا جانے کیا بنے نبمر ایک ہمارا اور نمبر دو، دنیا کا۔ مفت کا کھانا کھانے کی بھی ہمیں عادت پڑ گئی ہے کہ یونیورسٹی میں ہر وقت سیمینار اور کانفرنسیں چلتی رہتی ہیں۔
لیکن اس سب کے باوجود پرچے ہمارے ہنوز بےکار بلکہ انتہائی بےکار ہوتے ہیں۔ ہوا کریں۔ مائی شو ڈزنٹ کئیر۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں پرچوں اور سابقہ دوستوں کے علاوہ نیز یہ کہ ہے دوڑتا اشہب زمانہ اس قدر تیزی سے کہ رات کو سوتے  میں کبھی آنکھ کھل جائے تو ہم حساب کتاب لگاتے ہیں اور  بے طرح ڈر جاتے ہیں۔ دن کی روشنی میں ایسے خیالات ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ٹالے جا سکتے ہیں لیکن رات میں بہت سے شعوری اور غیر شعوری پردے اٹھ جاتے ہیں ذہن سے۔

Wednesday, September 28, 2016

ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہم اپنے اندر کی ویرانی ساتھ لیے پھرتے ہیں مگر اس پر ہم فی الحال غور کرنے کو تیار نہیں۔
کس قدر عجیب بات ہے کہ براعظم بدلنا آسان ہےاور خود کو بدلنا مشکل۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہمیں سنجیدگی سے سارتر کی تبلیغ کی گئی یعنی کہ ایگزسٹنس پریسیڈس بینگ لیکن ہم کہ ازل کے شکست خوردہ ہیں ، اس پر ایمان لانے  کو تیار نہیں۔ سارتر کی سب سے پیاری بات تو ہمیں وہی لگتی ہے یعنی کہ جہنم سے مراد ہے، غیروں کے ساتھ ناشتہ۔ویسے سچ یہ ہے کہ ناشتا تو کیا، اب ہم لنچ ڈنر سب اکیلے ہی کرتے ہیں اور جب ایک مرتبہ ہمیں ناشتے پر کمپنی میسر ہوئی تو اس سے ہم کافی زیادہ لطف اندوز ہوئے۔  شاید انسان تھوڑا بہت تبدیل ہو ہی جاتا ہے کبھی کبھار لیکن ہمارے تو خارجی عوامل تبدیل بلکہ یکسر تبدیل ہو گئے ہیں۔
رہے ہم تو خدا جانے کس سے وہ اپنی خو نہ چھوڑیں  گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں کی شرط باندھ کر اس دنیا میں آئے ہیں کہ کہیں تبدیل ہو کر نہیں دیتے۔ ہمارے اندرونی مسائل آج بھی وہی ہیں کہ جو تھے۔ ہاں اپنی عمر بلکہ معمر العمری کا لحاظ کر کے ہم نے اماں کو ستانا چھوڑ دیا ہے اور صبح شام انھیں فون پر میں خوش ہوں کی تسبیح سنایا کرتے ہیں۔ رونا دھونا کوئی ایسا ناگزیر عمل نہیں  جس کے بغیر زندگی نہ گزر سکے اور دل کی بھڑاس نکالنے کو بلاگ کیا کم ہے۔
خیر زندگی تو کس شے کے بغیر نہیں گزرتی۔ ہم تو خیر روبوٹ واقع ہوئے ہیں لیکن سمجھوتا کرنا انسان کے خمیر میں شامل ہے، چاہے رو دھو کر کرے یا خاموشی سے۔ہمیں خاموشی پسند ہے۔
بہرحال آج کی آہ و زاری کا ایجنڈا یہ تھا کہ ہمیں ابھی بھی لوگ لفٹ نہیں کراتے اور اگر کرائیں بھی تو مستقل نہیں کراتے یہاں تک کہ ہمارے پیغامات کی لمبی قطار کے جواب میں ایک آدھ لفظ موصول ہوتا ہے اور ہم خود داری کے مارے پوچھتے بھی نہیں کہ معاملہ کیا ہے۔یہاں متعلقہ بات یہ بھی ہے کہ اگر کوئی قسمت کا مارا لفٹ کرا ہی دے تو ہم ایک سو اسی کے زاویے پر مڑ کر سرپٹ بھاگ نکلتے ہیں اور یہ نصف صدی کا قصہ ہے،
دو چار برس کی بات نہیں۔ چلیے ربع صدی سہی مگر یہ ذکر ہم ابھی چھیڑنا نہیں چاہتے۔
سوال یہ ہے کہ ہماری انسانوں سے دوستی کیوں نہیں ہوتی چاہے ہم دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں۔
برف ہماری طرف ابھی پڑنا شروع نہیں ہوئی لیکن ہمیں اس سے فرق کیا پڑتا ہے۔ ہم تو اگست میں بھی فروزن تھے سو دسمبر میں بھی رہیں گے۔
اور پھر ہم کہتے ہیں کہ انسانی تعلقات ہماری سمجھ میں نہیں آتے۔ ایک تازہ سابقہ دوست کے الفاظ میں، ویری انٹرسٹنگ۔


Monday, July 25, 2016

قصہ ایک ٹریٹ کا

گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ ہماری جب بقول شخصے  کتے والی ہونے کو ہو تو ہم اپنے آپ کو انسان سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ہم لاکھ انجینئر سہی مگر اصل میں ایک خاتون اور صرف ایک خاتون ہیں۔
خدا گواہ ہے کہ اپنے حالیہ دفتر میں ، جو اس ذات باری کے فضل سے عنقریب ہی ہمارا سابقہ دفتر ہونے کو ہے، آ ٹپکنے سے پہلے ایک تو کیا، نصف خاتون بھی نہیں ہوتے تھے۔ گھر میں بے ترتیبی سے اپنا سامان پھیلا کر رکھنے سے لے کر سنہرے رنگ کو ہرا اور ہرے کو نیلا بتانے سے لے کر تمام مقامات آہ و فغاں پر ہماری تواضع اس قسم کے جملوں سے کی جاتی تھی جس میں ہماری صنف پر شک کا اظہار ہوتا تھا مثلا
کہیں سے پتہ نہیں چلتا کہ تم لڑکی ہو ( انچ انچ کے ناخن اور کیوں رکھے ہیں بھئی ہم نے)
لڑکیوں والی کوئی خوبی ہے تم میں
آج تک میں نے اتنی نکمی لڑکی نہیں دیکھی
فلاں کے فلاں کی فلاں کے فلاں کی بیٹی کتنی سلیقہ مند ہے تم نے وغیرہ وغیرہ
مگر ہم نے کبھی ان جملوں کو دل پر نہیں لیا کیونکہ یہ جملے اول تو دل پر لینے والے ہیں نہیں اور دوئم ہمارا دل ایسا دل نہیں جس پر کچھ لیے جا سکے اور سوئم اماں کی باتیں دل پر کون احمق لیتا ہے۔ تو ہماری یونہی عرف عام میں لڑکوں والی زندگی گزرتی رہی، گزرتی رہی گزرتی رہی یہاں تک کہ ہمیں  اپنے دفتر سے ( جو اس وقت ہمارا ہونے والا دفتر تھا ) ای میل آ گئی کہ مسٹر تشریف رکھیے۔ مسٹر یوں کہ انھوں نے بنی بنائی ای میل کو تبدیل کرنے کی زحمت نہیں کی۔ کھٹک تو ہمیں یہیں جانا چاہیے تھا سٹیٹس کو کی اس قدر اندھا دھند حمایت پر لیکن ہم اس وقت بہت ہی بیوقوف بلکہ فقط بے وقوف ہوا کرتے تھے۔
یہاں اختلافی نوٹ درج کرتے چلیں کہ لڑکوں والی زندگی ہم صرف عرف عام کی رعایت سے کہہ رہے ہیں ورنہ ہمارے ذاتی خیال میں ہر انسان کو اپنے رنگ نسل  صنف اور عقیدے سے قطع نظر اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
بس بھئی، پھر ہمارا دفتر ہمیں ٹکرا گیا اور ہم اسے۔ یہاں ہم پر خاتون ہونے کا ایسا کوئی پکا اور آل اینکمپاسنگ لیبل لگایا گیا کہ آج تک اس کی گوند اتارتے پھرتے ہیں۔
بارے دفتر کے کچھ بیاں ہو جائے، اس سے پہلے کہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں کہ ہم کوئی ایسا کام کرتے ہیں جو خالصتا خواتین کے ساتھ مخصوص ہے۔ اگر ایسا ہوتا اور ہم کسی کھڑوس بابے کی سیکریٹیری ہوتے یا کوئی سکول ٹیچر یا کوئی فیشن ڈیزائنر یا پھر مدر آف آل ہاررز، کوئی ماڈل جن کے بینک اکاونٹس، خال و خد نیز قد و  قامت کو ذہن میں رکھ کر ہر سال لان کی نئی نئی کلیکشنز لانچ کی جاتی ہیں تو مسئلہ سمجھ میں بھی آتا کہ ہم میں اپنے کام کے لیے درکار خصوصیات کا فقدان ہے اور ایسے میں ہم اپنی روز و شب کی فرومائیگی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر چپ ہو رہتے۔
لیکن۔۔۔۔ایسا نہیں ہے۔
ہے کچھ ایسا کہ ہم اپنی دن کی نوکری میں پی سی بی ڈیزائن کرتے ہیں، ایف پی جی اے کے ڈیزائنز کی ٹیسٹنگ کرتے ہیں اور پاور سپلائی کے کرنٹ کے کافی یا ناکافی ہونے  اور وولٹیج لیول کے مختلف سٹینڈرڈز کی باہم مطابقت پر گھنٹوں بحث کرتے ہیں۔  آج ہی ہمیں سنکرونس اور اے سنکرونس ریسیٹس کے موازنے پر ایک لیکچر ملا جس کا لب لباب یہ تھا کہ انٹل والے اپنی بسوں میں اے سنکرونس ریسیٹس استعمال کرتے ہیں تو ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے۔ لیکچر دینے والے صاحب چونکہ ہمارے دفتر کے واحد انسان ہیں تو ہم نے یہود و نصاری کی اندھا دھند پیروی  کی نصیحت پر اعتراض نہیں کیا۔
سی اور ویری لاگ سے ہماری جان پہچان کا علم رکھنے والوں کو جب ہماری  اردو کی استعداد پر شک ہوتا ہے تو ہم سے رہا نہیں جاتا۔ انگریزی کا تو ذکر ہم کرتے ہی نہیں جس میں ہم نے  جی آر ای میں ریاضی سے بھی زیادہ نمبر مارے یہاں تک کہ ہمیں اپنے انجینئر ہونے پر شک ہونے لگا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں پناہ ملے گی تو صرف فرانسیسی  کے دامن میں اور تب جب ہم پکے فرینکو فائلز کی طرح اپنی زبان کو کسی اور زبان میں جنبش دینے سے قطعا انکار کر دیں۔
استعداد پر شک سے مراد یہ نہیں کہ لوگ ہمارے میر کے حوالوں پر اعتراض کرتے ہیں یا غالب کی تشریح پر۔ غلطی پکڑنا تو ایک طرف، ہمارے اردگرد  موجود لوگ اس نوع کے ہیں کہ ان کے سامنے میر و غالب کا نام لینا بھی شدید بے ادبی ہے۔  مقصود فقط اتنا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم چھوٹے چھوٹے جملے بولنے سے قاصر ہیں ، اس نوعیت کے جو ابتدائی کچی پکی جماعتوں کے قاعدوں میں سکھائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر شکریہ، کوئی بات نہیں، یہ تو ہمارا فرض تھا، جی میں جا رہی ہوں،  خدا آپ کو بھی خوش رکھے وغیرہ وغیرہ۔
 پیسے ضائع کرنے کے بھی طریقے ہوتے ہیں مگر ہم کہ ایک اوور آل نحوست کے مارے ہوئے ہیں، پچھلے ہفتے ایک بھورا نوٹ کہیں گرا دیا۔  مجال ہے جو اس کا دل میں رتی بھر بھی ملال آیا ہو۔ ہاں اس نوٹ پر ضرور افسوس ہوتا ہے جس کی آج  ایک نام نہاد ٹریٹ ضد کر کے دی۔
قصہ اس ٹریٹ کا یوں ہے کہ ہم ایک کمپیوٹرائزاڈ موٹر ورک شاپ کے سامنے سے گزرتے گزرتے اس سے ملتے جلتے انیشئلز والی یونیورسٹی کو دل دے بیٹھے۔ جب خدا نے اس یونیورسٹی والوں کے دل میں رحم ڈال دیا اور انھوں نے اردو غزل کی روایت کے برعکس ہمیں قبولیت کا پروانہ بھجوایا تو ہمارے دانت چوبیس گھنٹے باہر رہنے لگے ۔ اس قدر کہ ہمارے گھر والے اگر عام گھر والے ہوتے تو انھیں اس مرتبہ تو وہ شک ضرور ہو جاتا جو تین سال قبل ہمارے ایک شہری مجنوں بننے پر بھی نہیں ہوا تھا ۔   پھر ہمیں کم از کم کسی کتے نے تو ضرور کاٹا ہو گا جو ہمارے جی میں آ سمائی کہ ہم اپنی خوشی میں اوروں کو بھی شریک کریں، اور پیسے خرچ کر کے۔
لیکن یہ پلان ابھی فرد فرد تھا کہ ہمیں ایک بفر کے ذریعے  خالصتا بی جمالو انداز میں طعنہ مارا گیا کہ ہم نے آج تک کوئی ٹریٹ نہیں دی۔ اب سیدھا سادا جواب اس کا یہ بنتا تھا کہ بندہ خدا، آپ نے مانگی نہیں تو ہم نے دی نہیں لیکن ہم سیدھی بات اونچی آواز میں کہاں کر سکتے ہیں۔ فورا تیار ہو گئے  حالانکہ ہمیں دبے الفاظ میں سمجھایا بھی گیا کہ زیادہ پیسے ضائع مت کیجیے۔
لیکن ہم نے آج تک کسی کی ڈھنگ کی بات مانی نہیں اور اس روایت کو ہم توڑنا نہیں چاہتے تھے سو کہا تو سن کے اڑا دیا۔
اس پر بھی ہم نے وضاحتیں دیں کہ ہم پہلے سے ہی  ٹریٹ دینا چاہ رہے تھے وغیرہ وغیرہ حالانکہ اس سے کہیں بہتر تھا کہ ہم اپنی میز سے مٹی جھاڑ لیتے۔ کمیونیکشن ، الا اس کہ کہ طنز پر مشتمل ہو، نہایت بے معنی اور بے مصرف شے ہے اور سامع و مقرر ہر دو کا وقت اور انرجی ضائع کرنے اور کائنات کی انٹروپی میں اضافہ کرنے کے علاوہ کسی کام نہیں آتی۔ یہ خیال ہمارا دن بہ دن راسخ ہوتا چلا جا رہا ہے حالانکہ ابھی کچھ عرصہ قبل ایک خدا کا بندہ کہ شاید صاف صاف باتوں کا عادی نہیں، ہمارے فلسفے کو ایسے دل پر لے گیا جیسے ہم نے اس کے سر پر بالوں کی ڈسٹریبیوشن پر تنقید کر دی ہو۔  پھر وضاحتیں تو کمیونیکشن کے نچلے ترین قدمچے پر آتی ہیں اور اب تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جو لوگ وضاحتیں دینے پر یقین رکھتے ہیں وہ گھٹیا پن کی حد تک بے وقوف واقع ہوتے ہیں اور انھیں اپنے آپ کو انسانوں کے بجائے حشرات الارض میں شمار کرنا چاہیے۔
نوٹ ٹو سیلف: اگلی مرتبہ جب ہم کہیں بھی، کبھی بھی، کسی کو بھی وضاحت دینے لگیں تو اس سے پہلے اپنے آپ کو گولی مار لینی چاہیے۔
خیر۔۔۔ہم نے ٹریٹ دی۔
اور اس پر تئیس میں سے کل چار لوگوں نے ہمیں شکریے کا لفظ دے کر مارا۔
ایک ہماری دوست جن کے شکریے کا محرک  ہم نے آئس کریم  شیک کے بجائے ان کی جاںخلاصی کو قرار دیا۔
ایک ہماری جاننے والی جنھیں ہمارے پروگرام کا آج ہی علم ہوا۔
نیز دو لڑکے جن کا شکریہ۔۔ویٹ فار اٹ۔۔ہم نے خود پہلے ادا کیا تھا لاجسٹکس میں مدد کرنے کے باعث۔
سچ یہ ہے کہ ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ چند اونسوں کے بدلے لوگ ہمیں دنیا کی حکمرانی دے ڈالیں۔ نہ ہی ہمارے کسی کونے کھدرے میں یہ تمنا تھی کہ ایک ایک گلاس آئسکریم شیک کے عوض ایک ایک گلاب کی کلی لیے قطار یں بندھ جائیں۔ ہاں البتہ اگر مل کر لوگ ہمیں ایک عدد گلدستہ غیر پلاسٹک کا  دے ڈالیں تو ہمیں کیا اعتراض ہو۔ لیکن انسان کی آرزووں کی حد بھلا کہاں واقع ہوئی ہے۔
چلیے شکریے جیسے تکلفات سے تو ہم یوں بھی گھبراتے ہیں مگر اگر اتنے لوگوں میں سے ایک بندہ، اگر ایک بندہ بھی ہمیں فقط اتنا ایکنولج کر دیتا کہ کدھر دفع ہو رہی ہیں آپ تو رائیگاں جانے  کے احساس کی اس قدر گہری دھند ہمیں جولائی کی شام میں نہ لپیٹے ہوتی۔
بات ہے ہی اتنی رسوائی کی کہ اتنے ڈھیر سارے لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی ہمیں ایک عدد فریز کے قابل بھی نہیں سمجھا اور ہم اپنے تئیں بنے پھرتے ہیں کوئی تئیس مار خان۔  فیمنزم میں ایک اصول کے علاوہ ہمیں کبھی زیادہ دلچسپی نہیں رہی لیکن اب اپنے ساتھ کے لوگوں کا رویہ دیکھ  کر پیٹریارکی ، پبلک سپیس پر قبضہ جمانے اور   ڈسکورس سے عورتوں کی آواز  میوٹ کرنے  کے حربوں پر ایمان ہو چلا ہے۔ ان ڈائریکٹ طعنہ البتہ دوبارہ مل گیا اور اب سوچتے ہیں کہ ان آدمیوں سے ہم نہ تو طعنے بازی میں مقابلہ کر سکتے ہیں اور نہ سوشل آکورڈنیس میں۔
خدا نے اگر ہمارا ساتھ دیا جیسا کہ وہ مجبور و مقہور طبقات کا دیا کرتا ہے تو ہم ہارڈوئیر کے ساتھ ساتھ پاکستانی ہارڈوئیر ڈیزائنرز پر بھی پرچے لکھا کریں گے۔ یہ ضرور ہے کہ اس طرح کی سوچ کے ساتھ مالوالہ خاتون کی کامیابی پر لوگوں کا اچھلنا فہم سے باہر ہے کیونکہ انہوں نے اس معاشرے سے تعلق رکھنے کے باعث نہیں بلکہ اس سے دور رہ کر ترقی کی ہے۔ 

Wednesday, May 25, 2016

The curse of the extreme

Lying on the extreme of any curve sucks. It sucks big time, except when the curve represents the height of a population and you are near the right extreme and thus able to tower over most people in most rooms.
That extreme would be interesting, though of course I wouldnt know. In this case and this case only I am the mode and the median. Because of this I have to resort to weird shoes so that my boss and me might be able to see eye to eye on system level design issues. Contrary to my first impression, my current boss is a proper ras-gulla even though he accuses me of being brainwashed by media when he gets tired of my hyper modern views. But as far as professional conduct goes, he is a rare species due to his extremely gender blind opinions. Compared to him, the views of some of my age fellows about 'female engineers' are heinous and I shudder to think of the poor girls who might have to work with them in the future.

A word of caution is needed here:  I have personally found that I tend to accuse people of gender discrimination rather freely so I try to be cautious before passing judgements these days. Even the ras-gulla boss tried to teach me very straight forward stuff in the beginning but he was just trying to be helpful. Now the poor guy has to endure my unreserved criticism at any point where I think criticism is due and if he ever recalls me in the future he'll be mentioning me as a young lady with very strong opinions.

Anyways I have digressed as is my wont and we must return to the present.

I don't know why I can't have traits or streaks in moderation but I just can't.  I can't even blame it on my genes because my parents are two of the most normal and pragmatic people I know. I on the other hand am anything but.

A friend of mine says that she changes like a flip flop:  in a very short period of time. My u-turns,  on the other hand,  have a lower derivative but boy, are they some u-turns! Anyways this post was not about my turns and the way I change my ideas as other people change their hairstyle but it was about my abnormalities in general.

Ever since I heard a first hand account of a nasal surgery, I don't dislike my nose any longer but I absolutely loathe my social awkwardness which at 24 and a half has stopped being adorable and is just an indicator for boorish, uncultured and unsophisticated. Illiterate, too. Sophistication and elegance are traits that I would kill for but I simply don't have them:  that I why I have to resort to the study of computer architecture to fulfill my, you know, unfulfilled desires.

The PSTD that underlies my current rambling was triggered by a very traumatic event:  I was forced to attend a mandatory event where I was supposed to mingle with alien human beings. The sheer audacity of the command took my breath away but I put up with it just because it might lead to me gaining a janitorial position at my favourite place within the next ten years but the horror it turned out to be was unprecedented and unparalleled.

Socializing and networking with other humans is fine with me in theory and I can calmly discuss it in a foreign language from the safety of my bed but the practical hurdle is that I am not a social animal at all. Had Aristotle met me, he might have changed his famous opinion of mankind. My post- college days are particularly empty and I have taken to consoling myself by saying that many things I have been destined to be but a friend is not one of them.

I can and do discuss a broad spectrum of stuff with people I am comfortable with which includes my family, a couple of friends and the ras-gulla boss but when confronted by ordinary people I tend to become boring,  confused and tongue tied. If it is a large group, I can spend hours and hours sitting in a place with nary a syllable escaping my lips, desperately wishing for an escape door all the time. This party was no different:  I had started thinking that I had outgrown my social awkwardness but it seems to be the other way round. For some time I had been harbouring the notion that some of my colleagues generally give me a cold shoulder:  compared to the treatment I got over the weekend, these guys are practically members of my fan club and I'll have to strongly refrain myself from giving them huge grins and vigorous hand waves come Monday.
Emboldened by my new-found philosophy of do-anything and existence precedes being ,I even tried talking to people a couple of times. I failed miserably and pathetically.

Someone had the gall to walk up to me and remark on my quietness. He wasn't my rival but he was pretty high on the social awkwardness scale himself. Nor did he possess the sort of smile that might have made such remarks acceptable or even laudable. I listened to him talk with an obviously wandering mind, gave clear signals of discomfort and didn't bother asking his name. He didn't acknowledge me the next day.

As the only quiet observer in the room with a face that could turn milk sour, it was very clear to me that I was :

1. The most uncouth person in the hall
2. The least confident woman
3. The one least able to form new bonds and attachments
4. The only one scared out of her skin of new experiences
5. The most unfit person for moving away to a new place

These guys are said to have a psychologist who failed spectacularly in my case. My case of social awkwardness is actually so bad that my half- brother half-sahaili sibling who is more than ten years my juniour knows it, understands it, scolds me for it and gives me advice to protect me from myself. In return, I threaten to replace him by some new twelve year old with a more well behaved tongue.

I had been dreaming of going to Palo Alto for the social sophistication alone. Instead, I have been delegated to an official nerd haven. By this point, I am so tired of whining that I have stopped whining altogether. Had I possessed the energy, I could have nicely documented the various phases that one goes through after receiving an admission acceptance but somehow I am sick to the bone of my old self.

My old book-worm socially awkward to the extreme allergic to human self which also happens to be my present self essentially. It can also be safely predicted to be my future self, for today as well as for the days to come. I loathe reading and hate writing yet I am utterly incapable of doing anything else.

Still it would be nice to document it in a few words. After a very long wait, during which my time stopped while my whining could not, I got the news that there was after all someone in this big world ready to accept me as I am whereas another one did not deem me fit for them. Since I had been praying for this outcome, I spent about two months grinning 24/7. My facial muscles did a decade of work in these two months. Then the bitter reality, or rather, host of realities, caught up to me and I restarted whining day and night as usual. This might be some effect of Mir. Anyways due to some reasons I had to stop and now I am just quiet.

Farewells are poignant and a lot has been written about them in literature already. A unique perspective which I had the fortune to get this weekend was the kind of feeling you get when people all around you are saying fond goodbyes to each other, exchanging contact information, remembering past times and expressing hopes for the future.

All the while I sat, alone and quiet in a chair because I had no one to say goodbye to.

I think I managed to escape from this gathering with the least amount of human interaction of all the attendees.

And I thought I had changed. Ah, the tyranny of fortune. Once an outcast, an outcast forever.


Sunday, November 22, 2015

الماری سے نکالے جانا


لوگوں کی الماری میں ڈھانچے ہوا کرتے ہیں اور ذرا دلچسپ قسم کے۔ ہم جیسا انسان جو ماضی، حال اور مستقبل سے  یکساں طور پر مبرا ہو، اپنی الماری میں فقط دوسروں  کی پسند کے  کپڑے پاتا ہے اور وہ بھی گول مول کیے ہوئے بغیر تہہ کے جو شارٹ نوٹس پر  کوئی انسان نکال کر پہن بھی نہ سکے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم نوع انسانی سے  چھچھلتا ہوا تعلق رکھنے کے باعث دھڑلے سے انھی شارٹ نوٹس پر نکلے ہوئے  کپڑوں میں انٹرویو دینے بھی چلے جاتے ہیں۔

ماضی ، حال اور مستقبل سے ہمارے تعلقات یکساں طور پر کیوں منقطع ہیں، یہ بھی سنتے جائیے۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہم کچھ انسانوں سے واقف ہوا کرتے تھے مگر پھر جیسا کہ رسم دنیا ہے، ان رشتوں پر وقت کی گرد پڑتی گئی، پڑتی گئی اور پڑتی گئی یہاں تک کہ اب گرد کے سوا  کچھ ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا ۔ ہماری اینٹی سوشل ٹینڈینسیز کو جلا ملی کالج میں اور پھر نوکری پر پہنچنے کے بعد تو ہم ہر قسم کے جھنجھٹ سے آزاد ہو گئے۔ حال ہمارا یہ ہے کہ لوگ ہمیں صبح میں  باس کے پاس  بیٹھے ہوئے دیکھ لیں تو انھیں بھی سلامتی کے دائرے سے نکال دیتے ہیں کیونکہ شاید انھیں بھی اتنا تو اندازہ ہے کہ ایک کھڑا ہوا بندا ایک بیٹھے ہوئے بندے کو سلام کرے اور برابر میں  بیٹھے ہوئے  دوسرے بندے کو قطعا نظر انداز تو بہرحال تھوڑا سا آکورڈ تو ہو جاتا ہے۔ پھر بھی ایسے موقعوں پر ہم دل ہی دل میں دانت ضرور نکالتے ہیں ۔ جی چاہتا ہے کہ اپنی نحوست کا قصہ  بآواز بلند  چھیڑیں مگر افسوس ان بے شمار سخن ہائے گفتنی پر جو خوف فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے۔ ہمارے  حالیہ باس اس دفتر میں ہمیں انسان  کے آس پاس کی شے سمجھنے والے واحد شخص ہیں لیکن اب شاید ہمیں کسی اور کے سر منڈھ دیا جائے اور ہمیں پھر سے انٹیلیجینٹ فرنیچر کا ٹکڑا بن کر زندگی گزارنی پڑے۔

انٹیلیجینٹ فرنیچر جو سسٹم ڈیزائننگ جانتا ہو۔

اپنا دل بہلانے کو ہم کہا کرتے ہیں کہ ہم اس دفتر میں یوں رہتے ہیں جیسے میر کسی محفل میں کھڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ بھی ہم خود سے ہی کہا کرتے ہیں کیونکہ اول تو ہم کسی  غیر سے کچھ کہتے نہیں اور دوئم میر کو میر ناشناسوں کے سامنے بیان کرنے کی جہالت کے مرتکب نہیں ہو سکتے۔

یہاں ہم یہ بھی اعتراف کرتے چلیں کہ ہر ہاتھ سے جاتی ہوئی چیز کی طرح ان کی قدر بھی ہمیں اب محسوس ہو رہی ہے۔ چونکہ ہم ان کو برا بھی یہیں کہتے رہے ہیں تو اب بھلائی کا سرٹیفیکیٹ بھی یہیں دیں گے۔ مستقبل کے بارے  میں ان کی دلسوزی سے دی گئی کرئیر ایڈوائس  کا شاید ہم پر کبھی کوئی اثر بھی ہو۔ کبھی یہاں سے تشریف لے گئے تو اپنی تمام دکھی داستانیں ان  بیچارے کے کانوں میں انڈیل کر جائیں گے، اگر یہ اس وقت تک موجود رہے تو۔ 

بہرحال ان کی تعریفوں کے لیے ہم اپنی خود نوشت میں ۔میرا پہلا انسانی باس۔ کے نام سے ایک باب مختص کریں گے۔ویسے ان سے پچھلے باس بھی ہمیں انسان سمجھا کرتے تھے مگر وہ اتنے بڑے ہیں کہ ہم ان کے سامنے بالکل چوں چراں نہیں کرتے۔ فی الحال ہمارا مقصد تھا ، نوع  انسانی سے اپنے کٹے ہوئے ہونے کی تصویر کشی کرنا اور امید ہے کہ ہم اس میں کچھ کچھ  کامیاب ہو گئے ہوں گے۔

تو ایسے انسان کو جسے اپنے دفتر سے  دی ان ٹچ ایبلز آف ایکس وائی ایکس لکھنے کی شدید تحریک ملتی ہو اور جسے معلوم ہو کہ اس کی کنویں کنارے تصویر پر بھی سوشل میڈیا پر واحد تبصرہ اس کے کنڈل ٹچ کے  حالیہ کوارڈینیٹیس کے بارے میں ہو گا اور جس کا نام کائنات کی اجتماعی اگنور لسٹ میں کہیں اوپر اوپر پایا جاتا ہو اور جسے اپنے ملک میں رہتے ہوئے نارمل انسانوں سے دو نارمل جملے کہنا ناممکن لگتا ہو، اس کے لیے خاصا انوکھا تجربہ ہے، اپنا لکھا ہوا ادھر ادھر بٹتے ہوئے دیکھنا۔

ناپسندیدہ کپڑوں کے علاوہ ہماری الماری میں ایک اور چیز بھی پائی جاتی ہے اور وہ ہیں کاغذ۔ کاغذ ہی کاغذ، ہر قسم کی بکواس سے سیاہ   کاغذ۔ زیادہ تر تو اس زمانے کی یادگار ہیں جب ہمیں اینٹینوں اور اوپریشنل ایمپلافائرز پر دھیان دینا چاہیے تھا اور غلط وقت پر غلط چیزوں پر دھیان دینے کی روایت کے مطابق ہماری دلچسپی ادب میں ہوا کرتی تھی۔ دیکھیے شعر بذات خود ذرا غلط چیز ہیں مگر ان کا صحیح وقت استعمال ، مثلا کسی کے سامنے پھینکنے کے لیے، بڑی کلاس کی حرکت ہے مگر مائیکرو ویوز پڑھنے کے وقت پر شاعری کی کتاب کھول کر بیٹھ جانا بے حد گھٹیا کام ہے۔ کتنا گھٹیا، اس کا اندازہ  اب گریجویٹ سکولوں کے داخلہ شدگان کے اوسط جی پی اے دیکھنے سے ہوتا ہے۔

یہ تو شاید ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اوائل شاعری میں اپنے لکھے سے دنیا میں آگ لگانے کا سوچا کرتے تھے مگر ہماری اماں کی رائے میں اس فعل کا مناسب مفعول خود ہماری شاعری ہے۔ وہ بھی یوں کہ انھیں ہم نے آج تک ایک سطر نہیں پڑھنے دی  ( وہ واحد شعر بھی نہیں جو ہم نے خالص ان کے لیے کہا تھا، خریدیں گے منافع دے کے اپنا، ترے سب ہی خسارے ڈھونڈتے ہیں ) ورنہ وہ فاعل کا فریضہ خود سنبھالنے کی سوچیں اور مفعول کا ہمیں تھمانے کی۔

بہرحال تو اب ہمیں یہ علم ہوا ہے کہ دنیا نہ تو کسی کو خوش رہنے دیتی ہے، نہ آئیڈئیلسٹ اور نہ ہی الماری میں۔

ایک شام ہم نے یونہی ایک اخبار کا ادارتی صفحہ کھولا اور ایک  فکاہیہ کالم پر نظر ڈالی جو ہم کبھی شوق سے پڑھا کرتے تھے، جب ہم سیاسی نابالغ ہوتے تھے اور اس کے لکھنے والے ادبی بالغ۔ اس میں ایک شعر نما شے پر غور کرنے پر اندازہ ہوا کہ ایسی بات ہم بھی کبھی کہہ چکے ہیں مگر وزن میں۔ خود پر ادبی سرقے کا الزام لگاتے ہوئے جب  انٹرنیٹ پر اصل شاعر کو تلاش کرنے کی سعی کی تو کھلا کہ ہماری شاعری لوگوں نے چھ آٹھ جگہ بانٹ رکھی ہے اور وہ بھی زیادہ تر غلط حالت میں۔تہہ دل سے مانتے ہیں کہ ہماری شاعری نری بکواس ہوتی ہے لیکن اسے درست طور پر نقل نہ کیا جائے تو یہ انتہائی بکواس کو جا پہنچتی ہے ۔ پھر ہمارے شعر کو کوئی دھکا دے کر وزن سے گرا دے، یہ  ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود برداشت نہیں ہو رہا۔ اخلاق تو ایک نظریے کےمطابق مڈل کلاس کے بھیڑ پنے  کے سوا کچھ بھی نہیں مگر وزن ، جناب من، بڑی ہی اہم چیز ہے۔

پھر لوگوں نے جابجا ہماری باتیں تقسیم کی ہی کیوں، یہ بھی ہم سے ہضم نہیں ہو رہا۔ کبھی اپنی شاعری چھپوائی تو اس فقرےکے ساتھ چھپوائیں گے : خبردار، اسے شاعر  ( جی ہاں، شاعر) کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ پڑھا جائے۔ اور  سمجھ لیجیے کہ شاعر کی اجازت آپ کے لیے نہیں ہے۔وجہ آپ کو آئینے میں نظر آ جائے گی۔ 

یہ دنیا۔۔ایک تو یہ دنیا ہماری سمجھ میں نہیں آتی، جبھی تو ہم ریاضی اور وی ایل ایس آئی ڈیزائن پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ دنیا اگر دفتر میں ہو تو ہم سے ایسا سلوک کرتی ہے کہ ہمیں اپنے وجود رکھنے پر خطرناک قسم کے شبہات ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی سڑکوں پر ہو توخواہ مخواہ گھورتی ہے۔ کالج میں اس نے فقط ہماری تعلیم اور شخصیت میں خلل اور خلائل ڈالے ہیں۔انٹرویو  پینلوں ،داخلہ کمیٹیوں اور ادارتی بورڈوں  میں بیٹھ کر یہ ہمیں سراسر مسترد کیا کرتی ہے   اور عام زندگی میں جب ہمیں نظر انداز نہ کرےتو ذلیل کر رہی ہوتی ہے۔

پھر جب یہ ہماری اجازت کے بغیر ہمارے لکھے پر کچھ کرے ، چاہے وہ واہ واہ ہی کیوں نہ ہو، تو ہم سے رہا نہیں جاتا۔

اسی دنیا میں لوگوں کی کئی کئی دہائیوں تک لمبے چوڑے ملکوں پر مطلق العنان مرضی چلتی ہے مگر ہمارا ا پنے الفاظ تک پر کوئی اختیار نہیں۔ آج کل تو بالکل بھی نہیں کیونکہ  اپنی چوبیسویں سالگرہ پر بڑے سے  کیک  کا آدھا حصہ کھانے کے بعد ہم بے حد  زہریلے اور بے نیاز  ہو گئے ہیں۔ شاید کچھ حصہ اس احساس کا بھی ہو کہ زندگی میں باتیں دل میں رکھنے کا وقت نہیں ہوتا اس لیے جو محسوس ہو وہ تحریر کرنے کے علاوہ مدمقابل کے منہ پر فورا فورا مار دینا چاہیے اس سے پہلے کہ پارا   دوبارہ اپنے نارمل درجے تک گر جائے جو ہمارے کیس میں نقطہ انجماد کے آس پاس ہے۔ 

خدایا، ہمیں ایک مرتبہ، صرف ایک مرتبہ کسی اچھی جگہ پہنچا دے۔ یہ ساری بکواس اپنے سسٹم سے مکمل طور پر نکال کر، پھینک کر اور آگ لگا کر جائیں گے۔ اور کام کرنے کے وقت پر اپنے بلاگ کا کندھا ڈھونڈنے کی عادت بھی۔ 


Saturday, September 19, 2015

(اولیور ٹوئسٹ ہیز آسکڈ فار مور ( ایف پی جی اے


یا ، دو برس غلامی کے۔


شروع میں ہی اعلان مجبوری کرتے چلیں کہ ہمیں اپنے قلم کی حد سے بڑھی ہوئی نرگسیت کا اندازہ ہے اور ہم اس کی اصلاح کے متمنی بھی ہیں۔ دنیا میں پچاس ہزار کام کی چیزیں ہوں گی اور ان میں سے کچھ ہمیں متاثر بھی کرتی ہیں مثلا سابق یونانی وزیر خزانہ کی موٹر سائکل پر رخصتی اور دنیا میں لوگوں کا گھر سے بے گھر ہونے کا المیہ مگر ہمارے پاس ان پر خامہ فرسائی کرنے کے لیے نہ تو علم ہے اور نہ ہی صلاحیت۔ انسانی المیے تو اپنی جگہ ایک ایک ناول کے متقاضی ہیں کہ انسانوں کو اپنی جڑیں بدست خود اکھاڑ کردربدر بھٹکنے پر مجبور کرنا بہت ہی بڑا ظلم ہے۔یہ ایک اور ظلم ہے کہ ان کے ٹھکانہ بنانے کو کوئی جگہ بھی نہ ہو۔ اور اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ جڑیں اکثر پورے طور پر اکھڑتی بھی نہیں ہیں۔ ہم کہ اپنے ہی ماحول میں سارا وقت کسی آؤٹ کاسٹ کی طرح گزارتے ہیں، اسے کچھ کچھ سمجھ سکتے ہیں مگر اس پر ایک کہانی لکھنے کی سکت اپنے اندر نہیں پاتے۔


اگرچہ ہمارے کانوکیشن کی سالگرہ بھی قریب ہے اور ہماری اپنی بھی مگر ان دونوں مواقع کو ہم کوئی خاص درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ البتہ انھی تاریخوں میں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا جس نے ہماری آنے والی زندگی پر دور رس اثرات مرتب کیے، یعنی نوکری کا مل جانا۔ اب دو سال بعد ذرا جائزہ لینے کا سوچتے ہیں کہ پلٹ کر نگاہ ڈالیں تو ہمیں کچھ خاص دکھائی نہیں دیتا۔ نوکریاں پچاس ہزار طرح کی ہوتی ہیں اور ہماری والی کا شمار بور ترین میں ہوتا ہے جس میں بار بار ہمارے دل کے ٹوٹنے کے سوا کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آتا۔


منطق کی رو سے دیکھا جائے تو شاید مسئلے کی جڑ ہمارے دل کی ٹوٹنے کی انفنٹ کیپیسیٹی ہے۔


خدا لگتی بات ہے کہ ہمیں گھر میں ہی سہی مگر بری طرح اوور رئیکٹ کرنے کی بیماری ہے اور ہم بعض اوقات لوگوں سے ایک دم بدگمان ہو جاتے ہیں مگر آنکھوں دیکھی حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی۔ ابھی حا ل میں ہی ہم نے اپنے برابر کے چھوکرے کو ایک نئے بچے کا انٹرویو لیتے ہوئے دیکھا تو پھر وہ آگ صبح تک نہ بجھی شام کی لگی ۔ اسے بیان کرنے کے لیے کوئی قادرالکلام شاعر توشاید کفایت کر جائے مگر ہم اس کیفیت کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔ ادھر ہماری حالت یہ ہے کہ بارہا کا تجربہ ہے کہ جب ہم انٹرویو دینے کہیں پہنچتے ہیں جہاں انٹرویو لینے والے پہلے سے ہی ہمارے گھائل ہوتے ہیں تو وہاں بھی دو مربوط جملے بولنے میں ناکام ہو کر صفر نمبر لے کر لوٹ آتے ہیں۔ قصور اس میں بھی دنیا کا ہے۔ اب لوگ اگر ایف پی جی اے کی تعریف پوچھیں تو ہم لو آف مائی لائف اور بین آف مائی ایگزیسٹینس کے علاوہ کیا کہہ سکتے ہیں۔ اول الذکر تو وہ عرصے سے ہیں، اور موخر الذکر یوں کہ ان کے لیے اب ہم دنیا سے لڑنے والے ہیں جس کا ذکر آگے آئے گا۔


انڈسٹرئیل ایرئے کے ماحول نے ہماری غیر نثر کو تو جو کھایا ہے سو کھایا ہے، تخیل بھی بے حد پست کر کے رکھ دیا ہے۔ ہماری تمام تر فینٹسیز جو پہلے کبھی ستاروں سے آگے والے جہاں مسخر کرنے کے بارے میں ہوا کرتی تھیں، اب صرف ایک دن بند آنکھوں سمیت صبح سویرے فون پر استعفی دینے کے بارے میں رہ گئی ہیں۔


کڑوا سچ تو یہ ہے کہ ہم بزدلی کے مارے استعفی بھی نہیں دے سکتے اور حقیقت کے نزدیک ترین صرف یہی صورت رہ جاتی ہے کہ کسی سے بدتمیز ی کریں اور کھڑے کھڑے داغے جائیں یعنی فائر ہو جائیں۔ مزید کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم کسی سے غیر تحریری بدتمیزی کرنے کے بھی قابل نہیں۔


ایک صاحب کو میڈل دینا چاہتے ہیں جنھوں نے ایک دوست کو مشورہ دیا تھا کہ اس جگہ سے بھاگ جاؤ، یہاں لوگ تمھیں آگے نہیں جانے دیں گے۔ یہاں بھی سچ یہ ہے کہ اس میں کسی انسان کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہاں سسٹم ہی کچھ ایسا ہے۔


مسئلہ شاید یہ بھی ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری توہین واقعی میں ہوئی ہوتی ہے یا یہ محض ہمارا وہم اور خالی دماغ ہے۔کاش ہم کبھی یہ پہچاننے کے لیے ایک کمپیوٹر پروگرام بنا سکیں۔


ایک مرتبہ محسوس ہوا کہ ہماری ساری نام نہاد ٹیم ایک نئی جگہ شفٹ ہو رہی ہے، ہمارے سوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ہم بھی کسی ٹیم کا حصہ ہیں۔ اپنے تئیں اس نام نہاد ٹیم میں ہم ہر لحاظ سے درمیان میں آتے تھے مثلا بلحاظ عمر، تجربہ ، کام کرنے کا جذبہ ، قد، وزن ، رنگت وغیرہ وغیرہ لہذا یہ یکایک نارمل ڈسٹریبوشن کے آخری سرے پر دھکیلے جانا کچھ ہضم نہیں ہوا۔ خلاف عادت پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ہمارے مینیجر نے بہت ( یا شاید کافی ) سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اور یہ نیچرل سی بات ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم ٹھنڈے پڑ گئے کیونکہ دراصل پریشانی اس بات کی تھی کہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے۔ خیر انھیں احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ انھوں نے ہم سے پوچھے بغیر خود ہی فرض کر لیا ہے کہ ہم یہاں بہت ہی پارٹی ماحول میں رہتے ہیں اور نئی جگہ پورا دن خاموش رہ کر بور ہوں گے ( حالانکہ ہم ویسے ہی کان آنکھیں بند کر کے اپنی دنیا میں رہتے تھے) تو انھوں نے دنیا کا منحوس ترین لفظ یعنی سوری بول کر اپنی گردن چھڑا لی۔


منحوس ترین یوں کہ ہم ایک ایسے بچے سے واقف ہیں جواپنا حق سمجھ کر الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہے اور پھر ایک دلربا مسکراہٹ مع سوری پھینک دیتا ہے۔ پھر اگر عمر کا گریڈئنٹ اتنا ہو جتنا ہمارے اور ہمارے مینیجر کے درمیان ہے تو شکایت کنندہ تو نظریں اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہتا۔


ایک ہفتے تک سڑا ہوا رہنے ( جس کی محاورے کے مطابق ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوئی) اور ایک دن کا کام پانچ دن میں کرنے کے بعد نتیجہ نکلا کہ ہماری پہلی وفاداری بہرحال اپنی کمپنی سے ہے ۔ اس کی روشنی میں ہم نے اپنا پیسو اگریسو رویہ ترک کیا اور انھیں ایک جملے کی مار مارنے کے بعد کہ سر آپ نے تو اپنی ٹیم سے ہمیں نکال ہی دیا ہے، اپنا دل صاف کر کے دوبارہ کام میں لگا لیا۔ خیر اس پر یہ بیچارے کہ بے حد شریف آدمی ہیں، ذرا گھبرا گئے اور چار مرتبہ ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ٹیم سے نکالنے والی کوئی بات نہیں ہے حالانکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم کبھی ٹیم کا حصہ تھے ہی نہیں۔


خیر اس کہانی کا تو یہ ہوا کہ بعد میں پتہ چلا کہ نئی جگہ میں ضرورت سے کہیں زیادہ نیا پینٹ ہے اور کہیں کم جگہ اور یہاں ہم بلاناغہ بہت سیریس قسم کی سٹیگ پارٹی کریش کیا کریں گے اور شام میں اٹھنے تک کریش کرتے رہیں گے تو تب سے ہم اس چکر میں ہیں کہ قبول ہونے کی صورت میں اپنی درخواست کیونکر واپس لیں۔ اگر لوگ پارٹی کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس میں ٹانگ اڑانے والے کون ہوتے ہیں؟


پھر ہمیں بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہمارے برابر کے لونڈے تو اور لوگوں کے انٹرویو لیں اور ہماری شکل دیکھنا لوگوں کو ہزار بار کے پیہم اصرار پر بھی نصیب نہ ہو ۔ خیر شکل نہ دکھانے پر اعتراض نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں حال میں ہی علم ہوا ہے کہ لوگ ہمیں ایک دوسرے گروپ میں شفٹ کرنا چاہ رہے ہیں جس میں ہم نے شروع کے کچھ مہینے بھی روتے دھوتے گزارے تھے۔ اب اس وقت تو ایسا سوچنا بھی محال ہے جبکہ زمانے نے ہمیں مار ڈالا ہے اورہم سوچتے ہیں کہ وہ ولولے کہاں، وہ جوانی کدھر گئی۔ پروگرامنگ بڑا پیارا کام ہے مگر صرف گھر آ کر دل بہلانے کے لیے، پورا دن ایک ہی کوڈمیں باریک باریک کیڑے نکالنے اور لمبی لمبی رپورٹیں بنانے کا اب ہمیں نہ دماغ ہے اور نہ حوصلہ۔


اور اس خیال کے آتے ہی ہمارا میٹر گھوم گیا۔


پھر ہمیں یاد آیا کہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں ۔ اب مبہم سی درخواست تو ہم نے دے دی ہے، اس دلیل کے ساتھ کہ سافٹوئیر میں کام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے مگر نجانے کیوں اس کی حیثیت اولیور ٹوئسٹ کی التجا کی سی لگتی ہے۔


یہاں ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ شاید مسئلہ کچھ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ اب خیال آتا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کی باگ ہمیشہ اوروں کے ہاتھ میں ہی تھمائے رکھی ہے اور یہ کہنے کو تو ہماری زندگی ہے مگر اسے ہمارے علاوہ اور بہت سے انجانے اور جانے لوگ گزار رہے ہیں۔ ہمیشہ، ہمیشہ ہماری طرف سے فیصلے دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں تو کبھی کبھی انسان بری طرح بیزار بھی ہو جاتا ہے۔


باقی ایک ازلی کمیونیکشن گیپ کو تو شاید کچھ عرصے میں پوری طرح قبول کر کے اپنی زندگی اسی کے گرد ری سٹرکچر کر لیں۔


سوچتے ہیں کہ استعفی تو شاید کبھی کہیں سے نہ دے سکیں ، لیکن اگر کسی انسان سے بدتمیزی کر لیں تو کام آسان ہو جائے گا۔


جملے جو ہم واقعتا ہر کوشش میں ناکامی کے بعد کسی کو لپیٹ کر مارنا چاہتے ہیں:


۔ اگر میں ایک دن چپ چاپ غائب ہو گئی تو آپ کو وجہ معلوم ہو گی۔


میں شروع میں کچھ دن تو پیسو اگریسو رہوں گی۔ پھر میری دلچسپی ختم ہو جائے گی۔


دیکھیں اگر میری کام میں دلچسپی نہ ہو تو میرا صبح سویرے اٹھنے کو دل نہیں چاہتا۔


اگر کام بورنگ ہو تو میرے پاس کوئی وجہ نہیں رہ جاتی یہاں آنے کی۔


جس کام میں میرا د ل نہ ہو، وہ میں نہیں کر سکتی۔


اگر کوئی چاہے تو مفید ترین جملے کے لیے ووٹ دے سکتا ہے۔ ہماری اپنی کوشش ہو گی کہ کسی طرح گفتگو میں ان سب سے مد مقابل کو مستفید کیا جا سکے۔


ہم اچھے بھلے سٹوئک ہوا کرتے تھے مگر یہ حالات ٹھیک کرنے کے سبز باغ دکھا کر ہمارا دماغ خراب کرنے کی ساری ذمہ داری برٹرینڈ رسل پر جاتی ہے۔ اگر ہم اپنے پرانے نظریات ذہن میں رکھیں تو پہلے کی طرح خوش رہا کریں۔ شاید ہمیں اب مارکس اوریلئس پڑھنے کی ضرورت ہے۔


کبھی کبھی ہمیں ہنسی آتی ہے کہ ہم دنیا میں آگ لگانا چاہتے ہیں، اچھے وقتوں میں قلمی اور برے میں غیر قلمی ذرائع سے اور حالت یہ ہے کہ ہماری اپنی اماں کے نزدیک ہماری تحریریں خود آگ لگنے کے قابل ہیں۔


جب کبھی غصہ ٹھنڈا ہو تو یہ ضرور سوچتے ہیں کہ اگر خدا نے چاہا تو بہت ساری شیشے کی چھتیں چھ انچ کی ہیل سے توڑا کریں گے۔


یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم یہاں سے بھاگ نکلیں مگر پھر ہمیں اپنے مقاصد پر شک ہو جاتا ہے کہ اس شہر کے کچھ دل توڑنے والوں کو چھوڑ کر ہم فقط اپنے آپ سے دور بھاگنا چاہ رہے ہیں اور صاحبو، اس میں تو آج تک کوئی کم ازکم اپنی زندگی میں کامیاب ہوتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔تنہائی کا ایک بنیادی اور لاعلاج احساس تو مریخ تک ہمارا پیچھا کرے گا جب ہم داخلے میں ناکامی کے بعد وہاں جانے کی کوشش کریں گے تو۔ اپنے ایگزیسٹینشئل اینگسٹ کو ہم دبا کر رکھتے ہیں مگر دماغ کے کچھ نیورونز میں اس کے درست اور انتہائی ویلڈ ہونے کا احساس انتہائی شدت کے ساتھ موجود ہے۔ ہمارا تجربہ تو یہ کہتا ہے کہ خالی پن کی اس کیفییت کو، جو کہیں اندر سے اٹھتی ہے، کسی چیز سے پر نہیں کیا جا سکتا، نہ ادب سے، نہ فلسفے سے، نہ سائنس سے، نہ جمالیات سے اور نہ ہی انسانی تعلقات سے۔ جب مجمعے میں جا بیٹھنے کے بعد بھی انسان کی حالت ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے، اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا والی ہو اور ویرانے ہر جگہ ساتھ جا پہنچتے ہوں تو کسی دیوار سے سر پھوڑنے کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے۔


ہمارے زمانے کا عجیب المیہ ہے کہ نہ تو کہیں کوئی زندان کی دیوار نظر آتی ہے کہ اس سے سر پھوڑا جا سکے، اسے توڑنے کی کوشش کی جائے یا اس میں ایک روزن وا ہونے کی آرزو اور نہ صحرا جس کی سر میں خاک ڈالنے کے بعد سیر کی جا سکے۔ بھٹکنے کو اپنی تمناؤں کے دشت لامکاں کے سوا کچھ بھی نہیں۔محو آئینہ داری بھی ہم خود کو ہی دیکھتے ہیں اور تصویر کی طرح دیوار سے چپکے کھڑے ہونے کے لیے بھی ہمیں ۔یو گیسڈ اٹ۔ اپنی محفل کے سوا کون سا مقام سوجھتا ہے۔ زلفیں تو سب سنوار رکھتے ہیں اور پریشان حالی صرف اور صرف خیالات کے لیے مخصوص ہے۔ نہ کہیں کوئی ناصح ہے کہ جنوں کو قید کرنے کی سعی لاحاصل کرے اور شاید جنوں بھی کہیں نہیں جو اصل مسئلہ ہے۔


پھر ہمیں خیال آتا ہے کہ شاید یہ تمام تر ہمارے اندر کیمکلز کے بیلینس کا مسئلہ ہے۔


لیکن اس اصول کی رو سے ہر تحریر کے ساتھ مصنف کے بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ منسلک ہونی چاہیے۔


وہ اشیا جن سے ہمیں اب کچھ امیدیں ہیں: روبوٹ، ورچوئل رئیلیٹی اور پیہم پارٹیاں۔ بس روبوٹ اس قدر سمجھدار نہ ہوں کہ ہمہ وقت ہمارے تھیراپسٹ کی ذمہ داری نبھاتے نبھاتے تنگ آ جائیں۔ سڑیل روبوٹ صرف دو ہی ٹھیک ہیں، ایک ہچ ہائکر گائیڈ والا مارون اور ایک ہم۔

Tuesday, March 31, 2015

قطرے پہ گہر ہونے تک


غالب   کا ذکر ٹائٹل میں ٹھیک لگتا ہے مگر ہماری داستان دراصل موم کے پتھر میں میٹا مارفاس ہونے کی کہانی ہے، اور اس کا اندازہ ہمیں اپنے پچھلے سال کے نوٹس کھنگالتے ہوئے ہوا۔

ہمارا زیادہ تر وقت ایک ایسی جگہ گزرتا ہے جہاں اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے کی طرح اپنے لطیفوں اور حالات حاضرہ پر کمینٹری پر خود ہی ہنسنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں ہم اپنے برجستہ تبصرے روز کے روز لکھتے جاتے ہیں۔ اگر کبھی اس سے کچھ ملنے کا امکان ہو تو اپنے روزنامچے مرتب کر کے سال بہ سال چھپوایا کریں۔ اگرچہ اس میں بھی دو بنیادی مسائل ہیں، پہلا یہ کہ اشاعت کے بعد بھی اس کے کل قارئین اتنے ہی ہوں گے جتنے کہ اشاعت سے قبل، یعنی کہ ایک، یعنی کہ ہم۔ دوسرا یہ کہ ہم کہ زندگی، خوابوں اور گفتگو میں بہت لحاظ رکھنے کے قائل ہیں، اس میں اپنے پبلک پرسونا کے برخلاف بلا روک ٹوک لکھتے چلے جاتے ہیں لہذا ا قارئین کے وجود رکھنے  کی صورت میں گر اسے سنسر کر کے شائع کریں تو بچارا روزنامچہ نہیں بچے گا اور اگر بغیر کانٹ چھانٹ کے دنیا میں نکال دیں تو ہم نہیں بچیں گے۔

خیر خیال ہمیں یہ آیا کہ ہماری خود اعتمادی کا گراف ایک سال کے اندر اندر کس قدر ترقی کر گیا ہے۔ پہلے ہم دفتر میں سب سے نکمے اور بے کار انسان ہوا کرتے تھے اور ہمہ وقت یہ راگ بھی الاپتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ یہ نوبت آئی کہ ہم اپنے سی ای او کے بعد سب سے اچھے انجینئر شمار ہونے لگے۔ یہاں دھیان رہے کہ یہ ساری کی ساری رینکنگ ہماری طرف سے تھی اور اس کا علم ہمارے اور ہمارے خدا کے علاوہ صرف ہماری اماں کو ہوا کرتا تھا۔اب ہمیں حسب معمول خود سے زیادہ سمجھدار کوئی دکھائی نہیں دیتا۔اس فقید المثال ترقی کا حل تو اب ہماری سمجھ میں فقط یہ آتاہے کہ یہاں سے بھاگ نکلیں ۔

اپنے خیالات روزانہ کی بنیاد پر مرتب کرنے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اپنے ماضی کا بخوبی تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔آج کل کہیں کہیں کھلے ہوئے پھول دیکھ کر ہم یاد کرتے ہیں کہ گزشتہ بہار میں ہم کس قدر دکھی بلکہ میلنکلی ہوا کرتے تھے۔ ہم لوگوں کی زندگی سے دس ہزار مرتبہ کک آؤٹ ہونے پر تیار ہیں بشرطیکہ ہمیں اس کی وجہ بتا دی جائے۔باقی انسانوں والے نخرے تو اپنی جگہ رہے کہ کم از کم  کک کھانے والے کو اتنی عزت تو دی جائے کہ فاعل ایک مرتبہ  اسے روبرو اس کی  باضابطہ اطلاع دے ، پھر بے شک اس میں مفعول کی کم صورتی کا ذکر ہو، ہم چنداں معترض نہ ہوں گے۔  علت اور معلول کے خوگروں کی    سمجھ میں جو بات   نہ آئے ، کہیں بڑی مضبوطی سے کھب جاتی ہے اور کھبی رہتی ہے۔ اگر کبھی تنگ آ کر صحرا کو نکلے تو لیلی لیلی کے روایتی نعرے کے بجائے ریزن ریزن گایا کریں گے۔ یوں بھی آج کل ہم اپنی مہینوں کی شبانہ روز محنت کے باوصف ایک تکنیکی مسئلے کی وجہ جاننے سے غیر تکنیکی لوگوں کے باعث محروم رہنے کے سبب کچھ زیادہ ہی زود رنج ہیں۔ آہ، یہ غیر تکنیکی، غیر منطقی لوگ۔۔


خیر کک آؤٹ ہونا بھی ایک مفید تجربہ ہوتا ہے جس سے انسان کو بہت سی باتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ہماری ایک دوست کہا کرتی تھیں کہ یہ دنیا داہنے ہاتھ والے مردوں کی ہے۔ ہم اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ یہ دنیا کچھ بھی ہو، کم از کم حساس اور سوچنے والی خواتین کی ہرگز نہیں ہے یعنی ایسی خواتین جن کا ایمپلی فائی بھی زیادہ کام کرتا ہو اور پروسیسر بھی۔ ایسے ہارڈ وئیر کا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ انسان معمولی معمولی باتوں پر ضرورت سے کہیں زیادہ غور کرتا رہتا ہے اور پھر شور بڑھتا چلا جاتا ہے، بڑھتا چلا جاتا ہے، بڑھتا چلا جاتا ہے۔

شور کی اس یلغار سے گھبرا کر ہم نے اب اپنے سینسر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔رہا پروسیسر تو اسے اب لوگوں کے بجائے کام کے کام میں لگایا کریں گے۔زود رنج لوگوں کی دنیا میں کوئی زیادہ اچھی جگہ نہیں ہوتی اور ہر وقت کا مسخرا پن اور حماقت بہت بری طرح گلے پڑتی ہیں۔

سوشل آکورڈنیس اور حد سے بڑھی ہوئی حساسیت کے خول کو خدا خدا کر کے اتار پھینکنے کا فیصلہ تو ہم نے کر لیا ہے لیکن ہے یہ مشکل کام۔ خیر ۔ دیکھیے اب کے غم سے جی مرا۔ ایک ہی خول میں آخر کتنا عرصہ بند رہا جا سکتا ہے؟

ایک اور نتیجہ ہم نے یہ بھی اخذ کیا ہے کہ انسان کی زندگی سانس کی آمد و رفت سے بڑھ کر جیتے جاگتے خوابوں سے عبارت ہے۔ چھوٹے بڑے خواب انسان کے اندر دوڑتے ہیں اور اگر انھیں مار دیا جائے تو زندگی، زندگی کہلانے کے کوئی خاص قابل نہیں رہ جاتی۔ خواب چاہے مریخ کے ہی ہوں لیکن اہمیت رکھتے ہیں اس لیے کہ ان کو پورا کرنے کے لیے انسان جدوجہد کرتا ہے، منصوبے بناتا ہے، غور و فکر کرتا ہے اور کبھی کبھار کی خوشی کے لیے بہت سے غم برداشت کرتا ہے۔ اگر خواب نہ ہوں تو ان کی جگہ صرف ایک خلا یعنی ڈپریشن رہ جاتا ہے جسے مین از کنڈیمڈ ٹو بی فری جیسے درست مگر غیر متعلقہ سوالوں سے پر نہیں کیا جا سکتا صرف مزید گھمبیر کیا جا سکتا ہے۔ برگساں سے اختلافات اپنی جگہ مگر جوشش حیات سے بھرپور اندھا دھند منزلیں مارتا قافلہ، حیات انسانی کی بہت اچھی     تمثیل ہے۔

آج کل ہم اپنے آپ کو کچھ اس نوع کی نصیحتیں کرتے ہوئے پائے جاتے  ہیں۔ تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی ۔ اٹھو، تہذیب سیکھو، صنعتیں سیکھو، ہنر سیکھو۔

خدا جانے اردو شاعری کے ماروں کو اپنے تمام مسائل کا حل گھوم پھر کر اردو شاعری میں ہی کیوں ملتا ہے۔