Showing posts with label urdu. Show all posts
Showing posts with label urdu. Show all posts

Wednesday, June 12, 2013

منکہ ایک آزاد ایلف

اگرچہ بے رنگ، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
تو سند کے طور پر ہم بیان کرتے ہیں کہ آج سے ہم ایک آزاد اور خوش باش ایلف ہیں، مجبور و محکوم ایلفس سے بالکل جدا۔ لوگ باگ نوٹ کر لیں، مؤدب رہیں اور ہم سے بحث کرنے سے پرہیز کریں کہ اب ہمارے پاس جواب دینے کا وقت بھی ہے اور دلائل گھڑنے کے لیے تھوڑا بہت دماغ بھی۔ اپنے پسندیدہ موضوعات کی فہرست ہم جلد مرتب کیے دیتے ہیں، اگر ہم ان میں سے کسی موضوع پر تقریر کرنے لگیں تو سر ہلانے اور کبھی کبھار جی جی کرنے کے علاوہ کچھ بھی کرنا نہایت خطرناک ہے۔ وہ دماغ جو ہم نے چار سال سینت سینت کر رکھا، اب استعمال میں آئے گا۔
اب یہاں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ آزاد، مگر کس سے؟ کچھ کم فہم لوگ تبصرے کر چکے ہیں کہ بی بی، آپ آخر پابند ہی کب تھیں اور بھلا کب آپ نے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کی جو آپ اب آزاد ہوئی ہوں۔ تو ہم یہ کہتے ہیں کہ آزادی بذاتِ خود ایک احساس ہے، ضروری نہیں کہ کسی شے سے ہی آزاد ہوا جائے۔ لیکن ہمارے فلسفوں کو اگر دنیا آرام سے قبول کر لے تو پھر رونا کس بات کا ہے۔
اس دورانیے سے ہمارے بہت سے سنہرے خواب وابستہ ہیں، جو کہ ہم تقریبا اس وقت سے دیکھ رہے ہیں جب ہمیں ڈرا دھمکا کر سکول میں داخل کرا گیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ تمام عرصہ ہم نے پڑھتے کم اور خواب دیکھتے زیادہ گزارا ہے۔اب ہمیں ذرا عملی مشاغل اختیار کرنے پڑیں گے کہ ہم ایک نام نہاد عملی زندگی میں داخل ہو چکے ہیں۔
کچھ چھوٹے موٹے کنکر ابھی ہماری راہ میں ہیں، ان کو اصولا دھیان میں رکھنا چاہیے۔ پچھلے چار ماہ میں ہم پراجیکٹ کا کام مکمل کرنے کے کافی دعوے کر چکے، اب سنجیدگی سے کام کرنا پڑے گا۔ خیر اس کو ہم بوجھ نہیں سمجھتے بلکہ اس کی خاطر خوشی خوشی پریشان ہوتے ہیں۔ پھر ہمیں کسی کمپنی کو آمادہ بھی کرنا ہے کہ وہ ہمیں اپنا (یعنی کمپنی کا) بیڑا غرق کرنے کی اجازت اور توفیق دے۔ اگر فی الحال ہمیں اپنے میدانِ کار سے متعلقہ کام نہ ملا تو پھر کچھ اور کرنے کی کوشش کریں گے۔ کسی رسالے یا اخبار کا ایڈیٹر بننا ہمارا پرانا شوق ہے۔ ایڈیٹروں کے طلبگار اشخاص اور ادارے بلاجھجھک ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ بلاگ کے ذریعے رابطہ کرنے والوں کے لیے ہم ذرا کم تنخواہ پر کام کرنے پر بھی تیار ہو جائیں گے۔ ادبی رسالوں بالخصوص کلاسیکی ادب کی خدمت کرنے والے مجلوں کے لیے خصوصی رعایت۔ چونکہ ہم دو دو چار کرنے والے انسان ہیں تو یقینا رسالے کی معاشی حالت میں بھی فرق پڑے گا۔
 ایک نسبتا کم پرانا شوق کھیلوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ویڈیو گیمز کھیلنے کا ہمیں خوب تجربہ ہے۔ اگر ہمیں کسی گیم کی تیاری پر لگا دیا جائے تو ہم اس کی کہانی بھی لکھ لیں گے اور مختلف کرداروں کی آوازیں بھی نکال اور نکلوا لیں گے۔ کوڈ لکھنے کو تو خیر ہم ورڈپریس والوں کی طرح غزلیں کہنے کے برابر سمجھتے ہیں،جملہ پابند و آزاد نظموں سے معذرت کے ساتھ۔ فلموں اور تصویروں کا تجزیہ بھی کر لیا کرتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑے تو گرافکس کے لیے الگ پراسیسر بھی بنا سکتے ہیں۔
لکھتے لکھتے ہی خیال آ رہا ہے کہ ہم انسان کم اور منہ اور دانتوں کے جملہ مسائل کا حل کوئی منجن زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ بات یہ ہو رہی تھی کہ پچھلے دنوں ہم نے کافی سارا خیالی پلاؤ پکایا، اپنی ان تعطیلات کے مشاغل کے بارے میں سوچتے سوچتے، مگر ازلی سستی کے مارے کوئی بھی خیال لکھا نہیں۔ اب سب بھول بھال گئے، سو سب کچھ دوبارہ پکانا پڑے گا، اگرچہ وہ امتحانات کے دوران چھٹیوں کے بارے میں سوچنے کا لطف اب کہاں۔ کڑوا سہی مگر سچ ہے کہ پرچے سے پچھلی رات الٹی سیدھی کتابیں پڑھنا اور فلمیں دیکھنا اب کہاں نصیب ہو گا۔
تو ہمارے ایجنڈے کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔
۔۔۔ اگرچہ اب ہم رات کو سونے کے بعد آرام سے دوپہر کی خبر لا سکتے ہیں اور اس کے لیے پطرس کی طرح نماز پڑھنا بھی ضروری نہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ اب عمر کے اس حصے میں طلوعِ آفتاب کا نظارہ کر ہی لیں۔ کب سے ارادے باندھ رہے ہیں کہ صبح سویرے اٹھ کر دنیا کی سیر کریں گے۔ دیکھیے، شاید اب کے کر ہی لیں۔
۔۔۔دنیا کی ذرا زیادہ بڑے پیمانے پر سیر کرنے کا بھی ہمارا ارادہ ہے، جس قدر جیب اور ابا اجازت دیں۔ شاید حسرتوں کا روما، حیرتوں کی دلی دیکھ آئیں۔ خدا اس شہر اور اس کے باسیوں پر اپنا کرم کرے، ہمارے قدم رنجہ فرمانے سے پہلے بھی اور بعد بھی۔ ایسا ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ کے ساحلوں پر تنِ تنہا تو گھوم نہیں سکتے، سو وہاں سے بھی لوگوں کا مغز اور گرمی کھا کر لوٹ آئیں گے۔
ویسے اب اس قدر ناشکرا ہونا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہاں ہم اور بھی بہت سی اشیائے خوردونوش ہڑپ کریں گے جو ہر پھیرے میں کیا کرتے ہیں۔ مگر قدرتی حسن دکھائی دینے کا کوئی خاص امکان نہیں۔
۔۔۔واپس آئیں گے اور ایک عدد سفرنامہ تحریر کریں گے، یادداشت سے کہیں زیادہ تخیل کے بل بوتے پر۔ پھر اسے زبردستی لوگوں کو پڑھوائیں گے۔
۔۔۔کسی اور صنف میں بھی طبع آزمائی کریں گے اور اس کی تشہیر بھی کریں گے۔ طریقہ برائے تشہیر: دیکھیے نکتہ نمبر 3۔
۔۔۔پورا دن سوئیں گے، روز آئسکریم کھائیں گے ،رات رات بھر فلمیں دیکھیں گے لہذا خوش رہیں گے۔بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔
خوش رہنا اس ایجنڈے کا مرکزی نکتہ ہے، آرام کرنے اور کھانے پینے کے علاوہ۔ خدا ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے اور حالات سازگار بنائے، آمین۔

Sunday, May 12, 2013

کنڈل ٹچ عرف شکر

خدا ہر شکر خورے کو شکر دیتا ہے، اور وہ بھی اس کے پسندیدہ برانڈ کی۔ تو مجھے بھی میری شکر مل ہی گئی۔ اب لامحدود خوشی کے لیے کوئی تحفہ دینا چاہے تو کم کم آپشنز باقی ہیں۔ ایف پی جی اے یا ٹھیک چھ انچ ہیل کے جوتے۔





اس میں اردو کے حروف کچھ ایسے دکھائی دیتے ہیں:۔

 اپڈیٹ: اس میں اردو کی ٹیکسٹ فائلیں بھی بالکل درست دکھائی دیتی ہیں، اگر ان کو درست فارمیٹ میں تبدیل کر لیا جائے۔
میرا ایک پرانا خواب تھا، ایک ایسی کتاب کے بارے میں جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ دراصل زیادہ کہانیاں پڑھنے سے ، پڑھنے کی رفتار وہاں تک جا پہنچتی ہے کہ ضخیم سے ضخیم ترین کتاب بھی اس کا ساتھ نہیں دے پاتی۔ ڈھونڈنے پر بھی ایسی کتاب نہ ملی۔
خیر یہ تو پرانی بات تھی۔ اب کچھ عرصہ پہلے خیال آیا کہ کتابیں تو دنیا میں لامحدود ہیں، اصل باٹل نیک انسان کی پہنچ اور استطاعت ہے۔ پھر اندازہ ہوا کہ اس قدر کتابیں ایک عدد زندگی میں نہیں پڑھی جا سکتیں۔ کس قدر پریشان کن اور وحشت ناک خیا ل ہے!۔
جب کچھ عرصہ موبائل کی چمکدار سکرین پر کتابیں پڑھ پڑھ کر آنکھیں پھوڑ لیں تو فیصلہ ہوا کہ کوئی  بہتر متبادل تلاش کرنا چاہیے۔ اب امیدوار دو رہ گئے تھے، ٹیبلٹ اور ای ریڈر۔ ٹیبلٹس کی خوبی یہ ہے کہ یہ بڑے سائز میں بھی دستیاب ہیں۔ ان پر اردو کی سکین شدہ کتابیں بہتر طریقے سے پڑھی جا سکتی ہیں۔ ان کے لیے بہت سی ایپس دستیاب ہیں۔ رنگینی کا عنصر بھی ٹیبلٹس میں ہی موجود ہے۔
لیکن مجھے چونکہ بنیادی طور پر صرف کتابیں پڑھنی ہیں اس لیے ای ریڈر کا انتخاب کیا۔ اس کی ای انک ٹیکنالوجی آنکھوں پر بوجھ نہیں بنتی اور ڈسپلے میں بہت کم پاور استعمال ہوتی ہے۔ روز روز بیٹری کون چارج کرتا پھرے۔
امیزون کا کنڈل ٹچ میری توقع سے بہتر نکلا، یہاں تک کہ دیکھنے میں بھی۔اس میں صفحہ پلٹتے ہوئے ایک جھماکہ ہوتا ہے، جسے پہلی بار دیکھنے پر میں بہت خائف ہوئی۔ لیکن اس کی آدھے گھنٹے میں ہی عادت ہو جاتی ہے۔
اردو کی کتابوں کا مسئلہ ہم اردو والوں کی طرح ذرا ٹیڑھا ہے۔ سکین شدہ پی ڈی ایف کو نوے درجے پر گھما کر یعنی پورٹریٹ موڈ میں پڑھنا پڑتا ہے۔ اور ایک صفحہ بہت سے ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ اب مجھے شاید اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اردو پر ہنوز ٹیبلٹس کی اجارہ داری ہے۔ شاید کوئی پی ڈی ایف ایڈیٹر ڈھونڈ ڈھانڈ کر خود ان فائلوں کی کاٹ چھانٹ کرنی پڑے۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو کی ٹیکسٹ فائل بڑے مزے سے کھل جاتی ہے۔ فانٹ بھی دلکش ہے، بہ نسبت اس بھیانک پچکے ہوئے فانٹ کے جس میں اردو عام کمپیوٹرز میں دکھائی دیتی ہے۔ فانٹ کو بخوبی چھوٹا بڑا کیا جا سکتا ہے۔
بیٹری ٹائم ابھی تو کافی خوش کن ہے۔بارہ چودہ گھنٹے کے آف لائن استعمال کے باوجود اس کے بیٹری آئکن کا صرف ایک سیل کم ہوا ہے۔ اگر یہ لگاتار چار دن میرے پڑھنے کا ساتھ دے سکے تو کیا ہی بات ہو۔ اگر ایک ہفتہ چل گیا تو اس پر بیعت ہونا پڑے گا۔ امیزون والے اشتہار میں بڑا بڑا لکھتے ہیں :' بیٹری ٹائم، دو مہینے' نیچے منحنی سے فانٹ میں لکھا ہے: 'روزانہ آدھے گھنٹے کے آف لائن استعمال کی بنیاد پر' ۔ حد ہو گئی بھئی۔ کیا پریشر ککر ہے کہ روزانہ صرف آدھا گھنٹا استعمال ہو گا۔
کنڈل ہے تو اسے روٹ بھی کیا جائے گا، کبھی نہ کبھی۔ فی الحال یہ نیا ہے اور اس کا معاشرے میں ایک مقام ہے۔ چھوٹے بچوں کو اسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں، وہ صرف اسے دور دور سے دیکھ سکتے ہیں۔
ملا تو یہ پاس آؤٹ ہونے کے تحفے کے طور پر ہے مگر اب پاس ہونا ذرا مشکوک ہے، خصوصاََ کنٹرولز میں۔ خدا خیر کرے اور تمام نالائق بچوں کو ان کی اماں کی دعاؤں کے طفیل پاس کرے، آمین۔ ویسے یہاں شک پہلے بھی تھا، سمسٹر کے پہلے دو ہفتوں سے۔ اب جب کہ بی ایس ختم ہونے والا ہے تو اندازہ ہو رہا ہے کہ امتحان اور ٹیسٹ دینے اور اسائنمنٹس بنانے کے لیے مجھے نہیں بنایا گیا۔ جب سے یہ میرے ہاتھ لگا ہے اس وقت سے دنیا کے تمام کار ہائے نمایاں و غیر نمایاں ٹھپ پڑے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک چیز جسے فائنل ائیر پراجیکٹ کہتے ہیں، کھانا کھانا، رات کا کھانا پکانا بلکہ رات کو اشیائے خوردونوش کا ستیاناس کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اس کو کہانیاں بھی نہیں سنائی جا سکتیں۔ اس پر کہانیاں پڑھنے سے فرصت ملے ، تو نا :۔
تھا جی میں کہ دشوارئ ہجر اس سے کہیں گے
پر جب ملے ، کچھ رنج و محن یاد نہ آیا